صحیح بخاری حدیث ۲۷۱۹ - باغ کے کام اور پھل میں شراکت
باغ کے کام میں شراکت کی حدیث: انصار اور مہاجرین کا معاملہ
صحیح بخاری : ۲۷۱۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۱۹
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَتْ الْأَنْصَارُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا النَّخِيلَ ، قَالَ : لَا ، فَقَالَ : تَكْفُونَا الْمَئُونَةَ ، وَنُشْرِكْكُمْ فِي الثَّمَرَةِ ، قَالُوا : سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا " .
ابوہریرہ روایت:
انصار رضوان اللہ علیہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (مؤاخات کے بعد) یہ پیش کش کی کہ ہمارے کھجور کے باغات آپ ہم میں اور ہمارے بھائیوں (مہاجرین) میں تقسیم فرما دیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس پر انصار نے مہاجرین سے کہا کہ آپ لوگ ہمارے باغوں کے کام کر دیا کریں اور ہمارے ساتھ پھل میں شریک ہو جائیں، مہاجرین نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور ہم ایسا ہی کریں گے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۷۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں انصار رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ پیش کش کی کہ ان کے کھجور کے باغات ان کے اور مہاجر بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیے جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ پھر انصار نے مہاجرین سے کہا کہ آپ لوگ ہمارے باغوں کے کام میں ہماری مدد کریں، اور ہم آپ کو پھل میں شریک کریں گے۔ مہاجرین نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور ہم ایسا ہی کریں گے۔ باغ کے کام میں شراکت کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مدد اور تعاون کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یہاں باغات کی ملکیت تقسیم نہیں ہوئی، بلکہ کام اور پھل میں شراکت کی بات ہوئی۔ اس میں محنت، تعاون اور بھائی چارے کا آسان عملی نمونہ موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انصار نے مہاجرین کی مدد کے لیے باغات پیش کیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باغات تقسیم نہیں فرمائے۔
- کام کے بدلے پھل میں شراکت کی صورت اختیار کی گئی۔
- مہاجرین نے یہ تعاون قبول کیا۔
