صحیح بخاری حدیث ۲۲۹ - جنابت کا اثر کپڑے سے دھونا
جنابت کے اثر کی حدیث: کپڑے کو دھو کر نماز پڑھنا
صحیح بخاری : ۲۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۹
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَإِنَّ بُقَعَ الْمَاءِ فِي ثَوْبِهِ " .
عائشہ روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت کو دھوتی تھی۔ پھر (اس کو پہن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور پانی کے دھبے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں ہوتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت کا اثر دھوتی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے جاتے، حالانکہ کپڑے پر پانی کے دھبے باقی ہوتے تھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع جنابت، کپڑے کی پاکی، اور نماز ہے۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ اثر کو دھونا کافی تھا، پانی کے دھبے باقی رہنے سے نماز میں رکاوٹ نہیں بنائی گئی۔ اس میں صفائی کے ساتھ آسانی بھی ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ کپڑا چھوڑ دیا جائے، بلکہ دھونے کے بعد اسی کپڑے میں نماز کے لیے جانا بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنابت کا اثر کپڑے سے دھویا گیا۔
- دھونے کے بعد اسی کپڑے میں نماز کے لیے جانا بیان ہوا۔
- پانی کے دھبے باقی ہونا نماز سے مانع نہیں بتایا گیا۔
- پاکی میں اصل چیز ناپاک اثر کا دھونا ہے۔
