صحیح بخاری حدیث ۲۳۰ - منی کپڑے سے دھونے کا بیان
منی کپڑے پر لگ جائے: حدیث میں دھونے کا طریقہ
صحیح بخاری : ۲۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۰
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَنِيِّ ، يُصِيبُ الثَّوْبَ ؟ فَقَالَتْ " كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَثَرُ الْغَسْلِ فِي ثَوْبِهِ بُقَعُ الْمَاءِ " .
سلیمان بن یسار روایت:
میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس منی کے بارہ میں پوچھا جو کپڑے کو لگ جائے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ میں منی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھو ڈالتی تھی پھر آپ نماز کے لیے باہر تشریف لے جاتے اور دھونے کا نشان (یعنی) پانی کے دھبے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں باقی ہوتے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سلیمان بن یسار نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے منی کے بارے میں پوچھا جو کپڑے کو لگ جائے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اسے دھو ڈالتی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے باہر تشریف لے جاتے، اور دھونے کے نشان یعنی پانی کے دھبے کپڑے پر باقی ہوتے۔ اس حدیث کا اصل موضوع منی، کپڑے کی پاکی، اور نماز ہے۔ روایت سے یہ سادہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کپڑے پر اثر ہو تو اسے دھویا جائے۔ دھونے کے بعد پانی کے نشان باقی رہ جائیں تو متن میں اسے مسئلہ نہیں بنایا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- منی لگنے پر کپڑے کو دھونے کا ذکر ہے۔
- دھلائی کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔
- پانی کے دھبوں کا باقی رہنا روایت میں آیا ہے۔
- پاکی کے معاملے میں عملی طریقہ پوچھا اور بتایا گیا۔
