صحیح بخاری حدیث ۲۳۲ - منی دھونے کے بعد دھبے
منی دھونے کی حدیث: دھونے کے بعد نشان باقی رہ جائے
صحیح بخاری : ۲۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۲
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَرَاهُ فِيهِ بُقْعَةً أَوْ بُقَعًا " .
عائشہ روایت:
´ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے، کہا ہم سے عمرو بن میمون بن مہران نے، انہوں نے سلیمان بن یسار سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو دھو ڈالتی تھیں (وہ فرماتی ہیں کہ) پھر (کبھی) میں ایک دھبہ یا کئی دھبے دیکھتی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بیان ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو دھو دیتی تھیں، پھر وہ کپڑے میں ایک دھبہ یا کئی دھبے دیکھتی تھیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع کپڑے کی پاکی اور دھونے کے بعد نشان کا باقی رہنا ہے۔ روایت میں صاف الفاظ ہیں کہ دھلائی کے بعد نشان نظر آ سکتے تھے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اصل عمل ناپاک اثر کو دھونا تھا۔ صرف پانی یا دھلائی کے نشان کا باقی رہنا الگ چیز ہے۔ حدیث میں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ گھر کے ایک عملی واقعے کے ذریعے سادہ رہنمائی ملتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- منی کو کپڑے سے دھویا جاتا تھا۔
- دھونے کے بعد دھبے نظر آنا روایت میں آیا ہے۔
- پاکی کے لیے اصل توجہ دھونے پر ہے۔
- حدیث روزمرہ کے عملی مسئلے کا جواب دیتی ہے۔
