صحیح بخاری حدیث ۲۳۵ - گھی میں چوہا گر جائے
گھی میں چوہا گرنے کی حدیث: ناپاک حصہ الگ کرنے کا طریقہ
صحیح بخاری : ۲۳۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۵
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ ؟ فَقَالَ : " أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا ، فَاطْرَحُوهُ وَكُلُوا سَمْنَكُمْ " .
میمونہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چوہے کے بارہ میں پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا تھا۔ فرمایا اس کو نکال دو اور اس کے آس پاس (کے گھی) کو نکال پھینکو اور اپنا (باقی) گھی استعمال کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چوہے کے بارے میں پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چوہے کو نکال دو، اس کے آس پاس کے گھی کو بھی نکال پھینکو، اور باقی گھی استعمال کرو۔ اس حدیث کا اصل موضوع خوراک کی پاکی اور ناپاک حصے کو الگ کرنا ہے۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ پورے گھی کو فوراً پھینکنے کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ متاثرہ حصہ الگ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ یہ روزمرہ زندگی کا ایک عملی مسئلہ ہے: جب کھانے کی چیز کا کچھ حصہ متاثر ہو جائے تو حدیث میں اسی متاثرہ حصے کو دور کرنے کا طریقہ بتایا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھی میں چوہا گر جائے تو چوہا نکالا جائے۔
- چوہے کے آس پاس کا گھی بھی پھینکنے کا حکم ہے۔
- باقی گھی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔
- حدیث خوراک کی صفائی کا عملی طریقہ بتاتی ہے۔
