صحیح بخاری حدیث ۲۳۸۴ - مزابنہ کی بیع اور عرایا کی اجازت
مزابنہ اور عرایا کی حدیث: کھجور کی بیع میں احتیاط
صحیح بخاری : ۲۳۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۸۴
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ ، إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : حَدَّثَنِي بُشَيْرٌ مِثْلَهُ .
´ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابواسامہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے ولید بن کثیر نے خبر دی، کہا کہ مجھے بنی حارثہ کے غلام بشیر بن یسار نے خبر دی، ان سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ یعنی درخت پر لگے ہوئے کھجور کو خشک کی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، عریہ کرنے والوں کے علاوہ کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی تھی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ابن اسحاق نے کہا کہ مجھ سے بشیر نے اسی طرح یہ حدیث بیان کی تھی۔ (یہ تعلیق ہے کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن اسحاق کو نہیں پایا۔ حافظ نے کہا کہ مجھ کو یہ تعلیق موصلاً نہیں ملی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۸۴ کا خلاصہ
یہ حدیث بیع مزابنہ اور بیع عرایا کے فرق کو سمجھاتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، یعنی درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا۔ یہ حکم صاف الفاظ میں آیا ہے۔ پھر حدیث میں عرایا والوں کو اس ممانعت سے الگ کیا گیا اور بتایا گیا کہ انہیں اجازت دی گئی۔ یہاں ہمیں ایک اہم بات ملتی ہے کہ مالی معاملات میں نبی صلى الله عليه وسلم نے ایسی بیع سے روکا جو صاف اور محفوظ نہ ہو، لیکن جہاں اجازت دی گئی، اسے بھی خاص صورت کے طور پر رکھا گیا۔ اس لیے مزابنہ کی حدیث صرف ممانعت نہیں بتاتی، بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ تجارت میں الفاظ، مقدار اور صورت واضح ہوں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مزابنہ کی صورت میں درخت کی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے منع کیا گیا۔
- عرایا والوں کے لیے حدیث میں اجازت الگ سے بیان ہوئی۔
- تجارت میں حکم لگاتے وقت بیع کی خاص صورت کو سمجھنا ضروری ہے۔
- مالی معاملہ جتنا واضح ہو، فریقین کے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔
