صحیح بخاری حدیث ۲۳۸۳ - بیع مزابنہ سے ممانعت

بیع مزابنہ کی حدیث: درخت کی کھجور کے بدلے خشک کھجور کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۸۳

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ ، إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : حَدَّثَنِي بُشَيْرٌ مِثْلَهُ .

´ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابواسامہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے ولید بن کثیر نے خبر دی، کہا کہ مجھے بنی حارثہ کے غلام بشیر بن یسار نے خبر دی، ان سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ یعنی درخت پر لگے ہوئے کھجور کو خشک کی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، عریہ کرنے والوں کے علاوہ کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی تھی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ابن اسحاق نے کہا کہ مجھ سے بشیر نے اسی طرح یہ حدیث بیان کی تھی۔ (یہ تعلیق ہے کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن اسحاق کو نہیں پایا۔ حافظ نے کہا کہ مجھ کو یہ تعلیق موصلاً نہیں ملی۔

صحیح بخاری حدیث ۲۳۸۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع بیع مزابنہ ہے۔ متن میں خود اس کی وضاحت موجود ہے کہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا مزابنہ ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس بیع سے منع فرمایا۔ وجہ متن میں تفصیل سے نہیں آئی، اس لیے ہمیں حدیث کے الفاظ تک ہی بات رکھنی چاہیے۔ اتنا واضح ہے کہ اس طرح کے معاملے میں اندازہ اور برابر مقدار کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی حدیث میں عرایا کرنے والوں کو الگ رکھا گیا، یعنی انہیں اجازت دی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی خرید و فروخت میں ہر بیع ایک جیسی نہیں ہوتی؛ بعض صورتیں منع ہیں اور بعض صورتیں خاص اجازت کے ساتھ آتی ہیں۔ بیع مزابنہ کی حدیث ہمیں معاملہ صاف رکھنے کی یاد دہانی کراتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • درخت پر لگی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا اس حدیث میں منع ہے۔
  • عرایا والوں کے لیے اسی حدیث میں خاص اجازت بیان ہوئی ہے۔
  • خرید و فروخت میں ایسی صورت سے بچنا چاہیے جس میں اندازے کی وجہ سے اختلاف ہو سکتا ہو۔
  • حدیث کا حکم سمجھتے وقت منع اور اجازت دونوں کو ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں