صحیح بخاری حدیث ۲۳۸۲ - بیع عرایا میں پانچ وسق کی حد
بیع عرایا کی حدیث: خشک کھجور کے بدلے محدود اجازت
صحیح بخاری : ۲۳۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۸۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ ، فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ " . شَكَّ دَاوُدُ فِي ذَلِكَ .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے پانچ وسق سے کم، یا (یہ کہا کہ) پانچ وسق کے اندر اجازت دی ہے اس میں شک داؤد بن حصین کو ہوا (بیع عریہ کا بیان پیچھے مفصل ہو چکا ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیع عرایا کا حکم بیان ہوا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بیع عرایا کی اجازت دی کہ اندازہ کر کے درخت کی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے لیا جا سکتا ہے، مگر یہ اجازت پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق کے اندر بیان ہوئی۔ راوی داؤد بن حصین کو الفاظ میں شک ہوا کہ پانچ وسق سے کم کہا گیا یا پانچ وسق کے اندر۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بیع عرایا عام خرید و فروخت کی طرح کھلی اجازت نہیں، بلکہ ایک محدود رخصت ہے۔ اس میں مقدار کا خیال رکھا گیا ہے تاکہ معاملہ زیادہ پھیل کر جھگڑے یا نقصان کا سبب نہ بنے۔ اس لیے عرایا کی حدیث کو سمجھتے وقت مقدار اور اندازے دونوں باتیں ساتھ رکھی جائیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیع عرایا حدیث میں ایک خاص رخصت کے طور پر آئی ہے۔
- اس رخصت میں مقدار کا خیال رکھا گیا، یعنی پانچ وسق کے قریب حد بیان ہوئی۔
- خرید و فروخت میں اندازہ ہو تو اسے بے حد نہ پھیلایا جائے۔
- راوی نے جہاں شک بیان کیا، وہاں امانت کے ساتھ شک بھی نقل کیا گیا۔
