صحیح بخاری حدیث ۲۳۸۱ - بیع عرایا اور پھل کی خرید و فروخت کا حکم
بیع عرایا کی حدیث: پھل کی خرید و فروخت میں صاف معاملہ
صحیح بخاری : ۲۳۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۸۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ ، وَالْمُحَاقَلَةِ ، وَعَنِ الْمُزَابَنَةِ ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا ، وَأَنْ لَا تُبَاعَ إِلَّا بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ إِلَّا الْعَرَايَا " .
جابر بن عبداللہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ، محاقلہ، اور مزابنہ سے منع فرمایا تھا۔ اسی طرح پھل کو پختہ ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا تھا، اور یہ کہ میوہ یا غلہ جو درخت پر لگا ہو، دینار و درہم ہی کے بدلے بیچا جائے۔ البتہ عرایا کی اجازت دی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۳۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بیع عرایا اور پھل کی خرید و فروخت کا حکم ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مخابرہ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ اسی طرح پھل کو اس وقت تک بیچنے سے منع فرمایا جب تک اس کی پختگی ظاہر نہ ہو جائے۔ اس سے صاف بات سمجھ آتی ہے کہ خرید و فروخت میں دھوکا، اندازے کا جھگڑا اور غیر واضح معاملہ پسندیدہ نہیں۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ درخت پر لگے ہوئے میوہ یا غلہ کو دینار و درہم کے بدلے بیچا جائے، البتہ عرایا کی اجازت دی گئی۔ اس لیے اسلامی تجارت میں اصل بات یہ ہے کہ معاملہ واضح ہو، دونوں طرف حق معلوم ہو، اور بیع ایسی نہ ہو جس میں بعد میں جھگڑا پیدا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پھل کو پختہ ہونے سے پہلے بیچنے سے بچنا چاہیے، کیونکہ اس میں نقصان اور جھگڑے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
- خرید و فروخت میں ایسی صورتوں سے پرہیز ضروری ہے جن میں چیز یا قیمت صاف نہ ہو۔
- بیع عرایا کو حدیث میں خاص اجازت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
- مالی معاملہ دینار و درہم جیسے واضح بدل کے ساتھ ہو تو فریقین کے حقوق زیادہ صاف رہتے ہیں۔
