صحیح بخاری حدیث ۲۳۸۰ - عرایا کی رخصت اور کھجور کی بیع

عرایا کی حدیث: خشک کھجور کے بدلے اندازے سے بیع کی رخصت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۸۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : "رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا " .

زید بن ثابت روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے سلسلہ میں اس کی رخصت دی تھی کہ اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے بیچا جا سکتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۳۸۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع عرایا کی رخصت ہے۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عریہ کے بارے میں اجازت دی کہ اندازہ کر کے اسے خشک کھجور کے بدلے بیچا جا سکتا ہے۔ حدیث مختصر ہے، اس لیے اس میں وہی بات رکھی جانی چاہیے جو متن میں آئی ہے۔ عرایا کی حدیث، کھجور کی بیع، خشک کھجور کے بدلے تازہ کھجور، خرص یعنی اندازہ اور خرید و فروخت کی رخصت اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض معاملات میں شریعت نے ضرورت کے مطابق رخصت دی ہے، مگر وہ رخصت اسی خاص صورت کے ساتھ سمجھنی چاہیے جس کا ذکر حدیث میں ہے۔ بغیر متن سے باہر گئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ عریہ کی بیع میں اندازے کی اجازت دی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عرایا کے معاملے میں نبی صلى الله عليه وسلم نے خاص رخصت دی۔
  • بیع میں اندازے کا ذکر اسی خاص صورت میں آیا ہے۔
  • معاملات کی حدیثوں کو ان کے الفاظ کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
  • خرید و فروخت میں رخصت بھی نبوی رہنمائی کے تحت معتبر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں