صحیح بخاری حدیث ۲۳۹ - ٹھہرے پانی میں پیشاب کی ممانعت

ٹھہرے پانی میں پیشاب کی حدیث: صفائی اور احتیاط کا حکم

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۹

وَبِإِسْنَادِهِ وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ : " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ " .

´اور اسی سند سے` (یہ بھی) فرمایا کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو جاری نہ ہو پیشاب نہ کرے۔ پھر اسی میں غسل کرنے لگے؟

صحیح بخاری حدیث ۲۳۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں، جو جاری نہ ہو، پیشاب نہ کرے، پھر اسی میں غسل کرنے لگے۔ اس حدیث کا اصل موضوع پانی کی پاکی، صفائی، اور دوسروں کے استعمال کا خیال ہے۔ ٹھہرا ہوا پانی اگر ناپاک کیا جائے تو وہ خود بھی متاثر ہو سکتا ہے اور بعد میں استعمال کرنے والے کے لیے بھی مسئلہ بن سکتا ہے۔ متن میں خاص طور پر غیر جاری پانی کا ذکر ہے، یعنی ایسا پانی جو بہتا نہیں۔ یہ حدیث روزمرہ صفائی کے ایک آسان اصول کو بیان کرتی ہے: جس پانی کو انسان استعمال کرتا ہے، اسے گندا نہ کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب سے منع کیا گیا۔
  • جو پانی جاری نہ ہو اس کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔
  • اسی پانی میں غسل کرنے کا سوال بھی حدیث میں آیا ہے۔
  • حدیث عام صفائی اور احتیاط کا سبق دیتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں