صحیح بخاری حدیث ۲۳۸ - آخری امت اور سبقت

ہم آخر میں آئے مگر سبقت والے ہیں: امت کی فضیلت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۸

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ " .

ابوہریرہ روایت:

ہم (لوگ) دنیا میں پچھلے زمانے میں آئے ہیں (مگر آخرت میں) سب سے آگے ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۳۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم دنیا میں پچھلے زمانے میں آئے ہیں، مگر آخرت میں سب سے آگے ہوں گے۔ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس میں امت کے لیے بڑی خوشی کی بات ہے۔ اصل موضوع امت محمدیہ کی فضیلت اور آخرت کی سبقت ہے۔ متن میں دنیا میں آخر میں آنے اور آخرت میں آگے ہونے کا بیان ہے۔ اس میں تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اسی حد تک بات رکھنا درست ہے۔ یہ حدیث مسلمان کو امید دیتی ہے کہ امت کا مقام اللہ کے ہاں خاص ہے، مگر اس مقام کو ذمہ داری کے ساتھ سمجھنا چاہیے، صرف دعویٰ بنا لینا کافی نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • امت کے دنیا میں بعد میں آنے کا ذکر ہے۔
  • آخرت میں سبقت کی بشارت بیان ہوئی۔
  • حدیث مختصر مگر امید دلانے والی ہے۔
  • فضیلت کو ذمہ داری کے احساس کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں