صحیح بخاری حدیث ۲۳۷ - اللہ کی راہ کا زخم

اللہ کی راہ میں زخم کی حدیث: قیامت کے دن عزت کا بیان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۷

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا ، إِذْ طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ ، وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ " .

ابوہریرہ روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر زخم جو اللہ کی راہ میں مسلمان کو لگے وہ قیامت کے دن اسی حالت میں ہو گا جس طرح وہ لگا تھا۔ اس میں سے خون بہتا ہو گا۔ جس کا رنگ (تو) خون کا سا ہو گا اور خوشبو مشک کی سی ہو گی۔

صحیح بخاری حدیث ۲۳۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو زخم مسلمان کو اللہ کی راہ میں لگے گا، قیامت کے دن وہ اسی حالت میں ہو گا جیسے لگنے کے وقت تھا۔ اس میں سے خون بہتا ہو گا، رنگ خون جیسا ہو گا، اور خوشبو مشک جیسی ہو گی۔ اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کی راہ میں زخم اور قیامت کے دن اس کی خاص حالت ہے۔ متن میں زخم کی ظاہری حالت، خون کا رنگ، اور خوشبو کا ذکر ہے۔ اس لیے اس حدیث کی بات اسی دائرے میں سمجھنی چاہیے: اللہ کی راہ میں لگنے والی تکلیف کو اللہ کے ہاں ضائع نہیں کیا گیا، بلکہ قیامت میں اس کا خاص نشان بیان ہوا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی راہ میں لگنے والے زخم کا خاص ذکر ہے۔
  • قیامت کے دن زخم اپنی حالت کے ساتھ ظاہر ہو گا۔
  • خون کا رنگ خون جیسا اور خوشبو مشک جیسی بیان ہوئی۔
  • حدیث اللہ کی راہ میں برداشت کی گئی تکلیف کی قدر بتاتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں