صحیح بخاری حدیث ۲۳۹۶ - قرض، سفارش اور باغ کی برکت

قرض اور برکت کی حدیث: تیس وسق قرض ادا ہونے کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۳۹۶

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، "أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَلَيْهِ ثَلَاثِينَ وَسْقًا لِرَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ ، فَاسْتَنْظَرَهُ جَابِرٌ ، فَأَبَى أَنْ يُنْظِرَهُ ، فَكَلَّمَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَشْفَعَ لَهُ إِلَيْهِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ لِيَأْخُذَ ثَمَرَ نَخْلِهِ بِالَّذِي لَهُ ، فَأَبَى ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخْلَ فَمَشَى فِيهَا ، ثُمَّ قَالَ لِجَابِرٍ : جُدَّ لَهُ ، فَأَوْفِ لَهُ الَّذِي لَهُ ، فَجَدَّهُ بَعْدَ مَا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَوْفَاهُ ثَلَاثِينَ وَسْقًا ، وَفَضَلَتْ لَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ وَسْقًا ، فَجَاءَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُخْبِرَهُ بِالَّذِي كَانَ فَوَجَدَهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُ بِالْفَضْلِ ، فَقَالَ : أَخْبِرْ ذَلِكَ ابْنَ الْخَطَّابِ ، فَذَهَبَ جَابِرٌ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : لَقَدْ عَلِمْتُ حِينَ مَشَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُبَارَكَنَّ فِيهَا " .

جابر بن عبداللہ روایت:

´ہم سے ابراہیم بن المنذر نے کہا کہ ہم سے انس نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے وہب بن کیسان نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ` جب ان کے والد شہید ہوئے تو ایک یہودی کا تیس وسق قرض اپنے اوپر چھوڑ گئے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے اس سے مہلت مانگی، لیکن وہ نہیں مانا۔ پھر جابر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی (ابوشحم) سے (مہلت دینے کی) سفارش کریں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور یہودی سے یہ فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ کے باغ کے پھل (جو بھی ہوں) اس قرض کے بدلے میں لے لے۔ جو ان کے والد کے اوپر اس کا ہے، اس نے اس سے بھی انکار کیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہوئے اور اس میں چلتے رہے پھر جابر رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ باغ کا پھل توڑ کے اس کا قرض ادا کرو۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو انہوں نے باغ کی کھجوریں توڑیں اور یہودی کا تیس وسق ادا کر دیا۔ سترہ وسق اس میں سے بچ بھی رہا۔جابر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کو بھی یہ اطلاع دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عصر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خبر ابن خطاب کو بھی کر دو۔ چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں تو اسی وقت سمجھ گیا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں چل رہے تھے کہ اس میں ضرور برکت ہو گئی۔

صحیح بخاری حدیث ۲۳۹۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا واقعہ تفصیل سے آیا ہے۔ ان کے والد وفات پا گئے اور ایک یہودی کا تیس وسق قرض چھوڑ گئے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے مہلت مانگی، مگر اس نے مہلت نہ دی۔ پھر جابر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا کہ آپ اس سے سفارش کریں۔ نبی صلى الله عليه وسلم آئے اور فرمایا کہ وہ جابر کے باغ کے پھل قرض کے بدلے لے لے، مگر اس نے انکار کیا۔ پھر نبی صلى الله عليه وسلم باغ میں داخل ہوئے، اس میں چلے، اور جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ پھل توڑ کر اس کا حق ادا کرو۔ جابر رضی اللہ عنہ نے تیس وسق قرض ادا کیا اور سترہ وسق بچ گیا۔ یہ حدیث قرض ادا کرنے کی سنجیدگی، سفارش کی کوشش اور نبی صلى الله عليه وسلم کی موجودگی سے برکت کے واقعے کو بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرض ادا کرنے کے لیے کوشش اور انتظام کرنا چاہیے۔
  • مہلت مانگنا ممکن ہو تو ادب کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے قرض خواہ سے بات کر کے جابر رضی اللہ عنہ کی مدد فرمائی۔
  • حدیث میں باغ کی کھجور میں برکت کا واضح واقعہ بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں