صحیح بخاری حدیث ۲۴۰۴ - قرض کی مقررہ مدت
قرض کی مدت: مقرر وقت پر قرض کا معاملہ
صحیح بخاری : ۲۴۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۰۴
وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسْلِفَهُ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ " .
ابوہریرہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اسرائیلی شخص کا تذکرہ فرمایا جس نے دوسرے اسرائیلی شخص سے قرض مانگا تھا اور اس نے ایک مقررہ مدت کے لیے اسے قرض دے دیا۔ (جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا جس نے دوسرے اسرائیلی شخص سے قرض مانگا، اور اس نے ایک مقررہ مدت کے لیے قرض دے دیا۔ اس روایت میں خاص طور پر قرض، مدت اور باہمی معاملہ کا ذکر ہے۔ قرض دینا ایک ذمہ داری والا کام ہے، اور قرض لینا بھی امانت کے احساس کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہاں مقررہ مدت کا بیان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مالی لین دین میں وقت صاف ہونا چاہیے تاکہ بعد میں جھگڑا نہ بنے۔ اس حدیث کی حد تک اصل بات یہی ہے کہ قرض ایک طے شدہ مدت تک دیا گیا۔ اس سے قرض کے معاہدے میں وضاحت، وعدہ اور ذمہ داری کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرض کے لیے مدت طے کرنا مفید ہے۔
- مالی معاملہ صاف ہو تو جھگڑے کم ہوتے ہیں۔
- قرض لینا اور دینا دونوں ذمہ داری کے کام ہیں۔
- وعدہ اور وقت کی پابندی مالی امانت کا حصہ ہیں۔
