صحیح بخاری حدیث ۲۴۰۳ - ضرورت مند کے مال کا درست استعمال
غلام آزاد کرنے کی حدیث: ضرورت کے وقت مالی فائدہ
صحیح بخاری : ۲۴۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۰۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : "أَعْتَقَ رَجُلٌ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ؟ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فَأَخَذَ ثَمَنَهُ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
ایک شخص نے اپنا ایک غلام اپنی موت کے ساتھ آزاد کرنے کے لیے کہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس غلام کو مجھ سے کون خریدتا ہے؟ نعیم بن عبداللہ نے اسے خرید لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت (آٹھ سو درہم) وصول کر کے اس کے مالک کو دے دی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنی موت کے بعد آزاد کرنے کا فیصلہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ غلام مجھ سے کون خریدتا ہے؟ نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے خرید لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت لے کر مالک کو دے دی۔ حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ ایک ایسا معاملہ پیش آیا جس میں مالک کو مال کی ضرورت تھی، اس لیے غلام کو فروخت کر کے اس کی قیمت اسے دے دی گئی۔ یہاں ہمیں مالی معاملہ، ضرورت مند کی مدد اور حکمت کے ساتھ فیصلہ کرنے کا سبق ملتا ہے۔ حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اچھا کام بھی ایسے انداز سے ہو جو صاحبِ معاملہ کے حالات کے مطابق ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مالی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
- فیصلہ کرتے وقت مالک کے فائدے کا خیال رکھا گیا۔
- اچھے ارادے کے ساتھ مالی حقیقت کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
- معاملات میں حکمت اور انصاف دونوں ضروری ہیں۔
