صحیح بخاری حدیث ۷۱۸۶ - مدبر غلام اور مالی انصاف

مدبر غلام کی حدیث: مالی انصاف اور درست فیصلہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۸۶

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُ ، فَبَاعَهُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ ، ثُمَّ أَرْسَلَ بِثَمَنِهِ إِلَيْهِ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ آپ کے صحابہ میں سے ایک نے اپنے غلام کو مدبر بنا دیا ہے (کہ ان کی موت کے بعد وہ آزاد ہو جائے گا) چونکہ ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہیں تھا اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو آٹھ سو درہم میں بیچ دیا اور اس کی قیمت انہیں بھیج دی۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۸۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع مالی انصاف ہے۔ ایک صحابی نے اپنے غلام کو مدبر بنا دیا، یعنی یہ طے کیا کہ ان کی وفات کے بعد وہ آزاد ہو جائے گا۔ مگر حدیث میں صاف بتایا گیا کہ ان کے پاس اس غلام کے سوا کوئی مال نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے اس غلام کو آٹھ سو درہم میں بیچ دیا اور قیمت اس صحابی کو بھیج دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فیصلہ صرف جذبات پر نہیں، موجودہ مالی حالت کو دیکھ کر بھی کیا جاتا ہے۔ یہاں مدبر غلام، غلام کی آزادی، مالی حق، اور شریعت کا فیصلہ جیسے الفاظ اسی حدیث کے اصل مضمون سے جڑے ہیں۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ نیکی کا ارادہ بھی ایسا ہو جو انسان کو بنیادی ضرورت سے محروم نہ کر دے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیکی کے کام میں اپنی مالی حالت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
  • حاکم یا قاضی معاملے کے حالات دیکھ کر فیصلہ کر سکتا ہے۔
  • کسی شخص کو اس کے واحد مال سے محروم کرنا درست فیصلہ نہیں بنتا۔
  • مالی معاملات میں جذبات کے ساتھ انصاف بھی ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں