صحیح بخاری حدیث ۷۱۸۵ - فیصلہ اور اصل حق
فیصلہ مل جانا کافی نہیں: اصل حق لینا ضروری ہے
صحیح بخاری : ۷۱۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۸۵
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَتْهُ ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَبَةَ خِصَامٍ عِنْدَ بَابِهِ ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ ، فَلَعَلَّ بَعْضًا أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ أَقْضِي لَهُ بِذَلِكَ وَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا ، أَوْ لِيَدَعْهَا " .
ام سلمہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دروازے پر جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی اور ان کی طرف نکلے۔ پھر ان سے فرمایا کہ میں تمہارے ہی جیسا انسان ہوں، میرے پاس لوگ مقدمہ لے کر آتے ہیں، ممکن ہے ایک فریق دوسرے سے زیادہ عمدہ بولنے والا ہو اور میں اس کے لیے اس حق کا فیصلہ کر دوں اور یہ سمجھوں کہ میں نے فیصلہ صحیح کیا ہے (حالانکہ وہ صحیح نہ ہو) تو جس کے لیے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو بلاشبہ یہ فیصلہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع فیصلہ اور حق ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دروازے پر جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی اور ان کی طرف نکلے۔ پھر فرمایا کہ میں تمہارے ہی جیسا انسان ہوں، میرے پاس لوگ مقدمہ لے کر آتے ہیں، ممکن ہے ایک فریق دوسرے سے زیادہ عمدہ بولنے والا ہو اور میں اس کے لیے فیصلہ کر دوں، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ سچا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے لیے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں، وہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے۔ یہ حدیث عدالت، مقدمہ اور دیانت کے لیے بہت سخت یاد دہانی ہے۔ انسان کو قانونی فیصلہ مل جائے، مگر اگر حق حقیقت میں اس کا نہیں تو اسے لینے سے بچنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جھگڑے کا فیصلہ ظاہری باتوں پر ہو سکتا ہے۔
- زیادہ عمدہ بولنا سچا ہونے کی دلیل نہیں۔
- کسی مسلمان کا حق غلط طور پر لینا جہنم کا ٹکڑا لینے جیسا ہے۔
- فیصلے کے بعد بھی انسان اپنے ضمیر اور حق کا ذمہ دار ہے۔
