صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۷ - جھوٹے مقدمے سے حق لینا آگ کا ٹکڑا ہے
حق تلفی کی حدیث: چالاکی سے مقدمہ جیتنا نجات نہیں
صحیح بخاری : ۶۹۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۶۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، وَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْ ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ " .
ام سلمہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں تمہارے ہی جیسا انسان ہوں اور بعض اوقات جب تم باہمی جھگڑا لاتے ہو تو ممکن ہے کہ تم میں سے بعض اپنے فریق مخالف کے مقابلہ میں اپنا مقدمہ پیش کرنے میں زیادہ چالاکی سے بولنے والا ہو اور اس طرح میں اس کے مطابق فیصلہ کر دوں جو میں تم سے سنتا ہوں۔ پس جس شخص کے لیے بھی اس کے بھائی کے حق میں سے، میں کسی چیز کا فیصلہ کر دوں تو وہ اسے نہ لے۔ کیونکہ اس طرح میں اسے جہنم کا ایک ٹکڑا دیتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک بہت اہم اصول بتایا کہ فیصلہ سننے والی باتوں کے مطابق ہوتا ہے، مگر اصل حق اللہ کے علم میں ہے۔ اگر کوئی شخص عدالت یا قاضی کے سامنے زیادہ چالاکی سے اپنا مقدمہ پیش کرے اور اس کی بات سن کر اس کے حق میں فیصلہ ہو جائے، لیکن حقیقت میں وہ چیز دوسرے مسلمان کا حق ہو، تو اسے لینا جائز نہیں۔ حدیث کے الفاظ بہت سخت ہیں کہ ایسا لینا جہنم کا ایک ٹکڑا لینے جیسا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹا مقدمہ، غلط دلیل، حق تلفی اور فریب سے حاصل کیا گیا فائدہ دین میں قابل قبول نہیں۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ آدمی بحث جیت جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کا حق نہ کھائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فیصلہ مل جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ مال حقیقتاً حلال بھی ہے۔
- جھوٹی یا چالاک دلیل سے دوسرے کا حق لینا سخت خطرے کی بات ہے۔
- مسلمان کو اپنے ضمیر اور اللہ کے علم کو سامنے رکھ کر حق لینا چاہیے۔
