صحیح بخاری حدیث ۷۱۶۹ - جھوٹے مقدمے کا انجام
جھوٹا مقدمہ اور حق تلفی: آگ کا ٹکڑا لینے سے بچیں
صحیح بخاری : ۷۱۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۶۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، فَأَقْضِي عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ " .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلاشبہ میں ایک انسان ہوں، تم میرے پاس اپنے جھگڑے لاتے ہو ممکن ہے تم میں سے بعض اپنے مقدمہ کو پیش کرنے میں فریق ثانی کے مقابلہ میں زیادہ چرب زبان ہو اور میں تمہاری بات سن کر فیصلہ کر دوں تو جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی (فریق مخالف) کا کوئی حق دلا دوں، چاہئے کہ وہ اسے نہ لے کیونکہ یہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو میں اسے دیتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قضاء اور حق تلفی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بھی انسان ہوں، تم اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو، ممکن ہے کوئی شخص اپنے مقدمے کو دوسرے سے زیادہ اچھی طرح پیش کرے اور میں جو سنتا ہوں اسی کے مطابق فیصلہ کر دوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت تنبیہ فرمائی کہ اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا حق دلا دوں تو وہ اسے نہ لے، کیونکہ وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے۔ اس حدیث میں جھوٹا مقدمہ، چرب زبانی، حق تلفی اور عدالت میں سچ بولنے کی اہمیت بہت صاف ہے۔ فیصلہ ظاہری باتوں پر ہو سکتا ہے، مگر انسان اپنے دل کی حقیقت جانتا ہے۔ اس لیے کسی مسلمان کا حق محض اچھا بول کر لینا خطرناک عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عدالت میں اچھا بولنا حق ہونے کی دلیل نہیں بنتا۔
- کسی دوسرے کا حق غلط طریقے سے لینا سخت وعید کا سبب ہے۔
- فیصلہ ظاہری دلیل پر ہو سکتا ہے، مگر ذمہ داری لینے والے پر رہتی ہے۔
- اپنے مقدمے میں سچائی اور دیانت لازم ہے۔
