صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۶ - دھوکہ دینے والے کی پہچان قیامت کے دن
دھوکہ دینے والے کی حدیث: قیامت کے دن غداری کی پہچان
صحیح بخاری : ۶۹۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۶۶
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر دھوکہ دینے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا جس کے ذریعہ وہ پہچانا جائے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی پیغام بہت سیدھا ہے: دھوکہ، غداری اور وعدہ خلافی معمولی بات نہیں۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہر دھوکہ دینے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کسی کے ساتھ بدعہدی کرتا ہے، اس کا معاملہ اللہ کے ہاں چھپا ہوا نہیں رہتا۔ دنیا میں کوئی شخص اپنی چالاکی سے بات چھپا بھی لے، مگر آخرت میں اس کی پہچان ظاہر کر دی جائے گی۔ اس لیے مسلمان کو معاملہ، وعدہ، ذمہ داری اور امانت میں صاف رہنا چاہیے۔ یہ دھوکہ دینے والے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ عزت والی زندگی سچائی اور وفاداری سے بنتی ہے، نہ کہ فریب اور چھپے ہوئے نقصان سے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دھوکہ اور غداری انسان کی آخرت کے لیے خطرناک معاملہ ہے۔
- وعدہ اور ذمہ داری میں صاف رہنا مسلمان کے کردار کا حصہ ہے۔
- دنیا میں چھپی ہوئی بدعہدی قیامت کے دن ظاہر ہو سکتی ہے۔
