صحیح بخاری حدیث ۷۱۱۱ - غدر اور بیعت

غدر کرنے والے کے لیے قیامت کا جھنڈا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۱۱

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَر حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَإِنِّي لَا أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُنْصَبُ لَهُ الْقِتَالُ ، وَإِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْكُمْ خَلَعَهُ ، وَلَا بَايَعَ فِي هَذَا الْأَمْرِ إِلَّا كَانَتِ الْفَيْصَلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ " .

نافع روایت:

جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر غدر کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور ہم نے اس شخص (یزید) کی بیعت، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے اور میرے علم میں کوئی غدر اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے اور دیکھو مدینہ والو! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا، میں اس سے الگ ہوں۔

صحیح بخاری حدیث ۷۱۱۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں غدر اور بیعت کی سنگینی بیان ہوئی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے گھر والوں اور خادموں کو جمع کر کے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان سنایا کہ ہر غدر کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا۔ پھر انہوں نے اپنے زمانے کے ایک خاص معاملے میں کہا کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی ہے، اور اس کے بعد جنگ کھڑی کرنا بہت بڑا غدر ہے۔ اس روایت سے بیعت، عہد، وفاداری، غدر کی سزا اور قیامت کے دن جواب دہی جیسے موضوعات سامنے آتے ہیں۔ متن کا زور اس بات پر ہے کہ عہد کو ہلکا نہ سمجھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غدر کو قیامت کے دن ظاہر کیے جانے والی سنگین بات بتایا گیا ہے۔
  • اللہ اور رسول کے نام پر کیے گئے عہد کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے اہل خانہ کو واضح موقف بتایا۔
  • فتنہ کے حالات میں عہد شکنی سے بچنے کی تاکید ملتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں