صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۸ - غدر اور قیامت کا جھنڈا
غدر کی حدیث: ہر دغا باز کے لیے قیامت کا جھنڈا
صحیح بخاری : ۳۱۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۸۸
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يُنْصَبُ لغَدْرَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر دغا باز کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا جو اس کی دغا بازی کی علامت کے طور پر (اس کے پیچھے) گاڑ دیا جائے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع غدر یعنی دغا بازی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ہر دغا باز کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا، جو اس کی دغا کی علامت ہو گا۔ یہ الفاظ بہت صاف ہیں۔ جو شخص کسی کے ساتھ عہد کر کے توڑتا ہے یا اعتماد لے کر خیانت کرتا ہے، اس کے عمل کی پہچان آخرت میں ظاہر کی جائے گی۔ اس حدیث سے وعدہ پورا کرنے، امانت رکھنے، اور لوگوں کے ساتھ صاف معاملہ کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دغا بازی آخرت میں ظاہر ہونے والا گناہ بن سکتی ہے۔
- اعتماد لینے کے بعد اسے توڑنا سخت خطرے کی بات ہے۔
- معاہدہ، وعدہ اور امانت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
