صحیح بخاری حدیث ۶۱۷۷ - عہد شکنی کی رسوائی
عہد شکنی کی حدیث: قیامت کے دن دغا کا نشان
صحیح بخاری : ۶۱۷۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۷۷
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْغَادِرَ يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ " .
ابن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عہد توڑنے والے کے لیے قیامت میں ایک جھنڈا اٹھایا جائے گا اور پکار دیا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی دغا بازی کا نشان ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۱۷۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عہد شکنی اور دغا بازی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عہد توڑنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا اٹھایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی دغا بازی کا نشان ہے۔ حدیث میں دغا کو چھپ جانے والی چیز نہیں بتایا گیا، بلکہ قیامت کے دن اس کے ظاہر ہونے کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ، عہد اور امانت کے معاملے کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ عہد شکنی کی حدیث، وعدہ خلافی، اور خیانت سے بچنے کے موضوع پر یہ روایت بہت صاف پیغام دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عہد توڑنا قیامت کے دن رسوائی کا سبب بن سکتا ہے۔
- دغا بازی کو معمولی معاملہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
- وعدہ اور معاہدہ کرتے وقت ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔
- انسان کا نام لے کر اس کی دغا ظاہر کی جائے گی۔
