صحیح بخاری حدیث ۶۱۷۸ - دغا بازی کا انجام
دغا بازی کا انجام: قیامت میں جھنڈا نصب ہو گا
صحیح بخاری : ۶۱۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۷۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ : هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ " .
ابن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عہد توڑنے والے کے لیے قیامت میں ایک جھنڈا اٹھایا جائے گا اور پکارا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی دغا بازی کا نشان ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۱۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عہد توڑنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی دغا بازی ہے۔ اس روایت میں لفظ نصب کا ذکر ہے، یعنی نشان کھڑا کیا جائے گا۔ پیغام وہی ہے کہ دغا اور وعدہ خلافی کو چھپا ہوا جرم نہ سمجھا جائے۔ جو شخص عہد کرتا ہے اسے اس کی پابندی کرنی چاہیے۔ عہد شکنی کی حدیث، دغا بازی، خیانت، اور قیامت کی رسوائی کے موضوع پر یہ روایت لوگوں کو محتاط کرتی ہے۔ حدیث کا متن مختصر ہے، اس لیے تعلیم بھی صاف اور محدود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دغا بازی قیامت کے دن ظاہر کی جائے گی۔
- عہد اور وعدہ پورا کرنا سنجیدہ ذمہ داری ہے۔
- انسان کو ایسے کام سے بچنا چاہیے جو رسوائی کا سبب بنے۔
- حدیث دغا کے انجام کو واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔
