صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۶ - دغا بازی کا انجام
دغا بازی کی حدیث: قیامت کے دن دغا باز کی پہچان
صحیح بخاری : ۳۱۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۸۶
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : أَحَدُهُمَا يُنْصَبُ ، وَقَالَ : الْآخَرُ يُرَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا، ان میں سے ایک صاحب نے بیان کیا کہ وہ جھنڈا (اس کے پیچھے) گاڑ دیا جائے گا اور دوسرے صاحب نے بیان کیا کہ اسے قیامت کے دن سب دیکھیں گے، اس کے ذریعہ اسے پہچانا جائے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع دغا بازی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا۔ روایت کے الفاظ کے مطابق وہ جھنڈا گاڑا جائے گا یا سب کے سامنے دکھائی دے گا، تاکہ اس دغا باز کو اس کے ذریعے پہچانا جائے۔ اس حدیث میں وعدہ شکنی، خیانت، اور دغا کے انجام کو بہت واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ بات صرف دنیا کے نقصان تک محدود نہیں، بلکہ قیامت کے دن بھی دغا کی نشانی ظاہر ہو گی۔ اس لیے مسلمان کو معاملات، معاہدوں، امانتوں اور وعدوں میں صاف دل اور سچا رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دغا بازی قیامت کے دن شرمندگی کا سبب بن سکتی ہے۔
- وعدہ اور معاہدہ معمولی بات نہیں، اس کی جواب دہی ہو گی۔
- مسلمان کو کھلے اور چھپے ہر معاملے میں سچائی اختیار کرنی چاہیے۔
