صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۷ - دغا باز کی علامت

دغا باز کی پہچان والی حدیث اور وعدہ نبھانے کی بات

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۸۷

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : أَحَدُهُمَا يُنْصَبُ ، وَقَالَ : الْآخَرُ يُرَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ " .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا، ان میں سے ایک صاحب نے بیان کیا کہ وہ جھنڈا (اس کے پیچھے) گاڑ دیا جائے گا اور دوسرے صاحب نے بیان کیا کہ اسے قیامت کے دن سب دیکھیں گے، اس کے ذریعہ اسے پہچانا جائے گا۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۱۸۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع دغا اور وعدہ شکنی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر دغا باز کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا، جس کے ذریعے وہ پہچانا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دغا صرف ایک وقتی غلطی سمجھ کر نظر انداز کرنے والی چیز نہیں۔ یہ ایسا عمل ہے جو بندے کے نام اور کردار کے ساتھ جڑ سکتا ہے۔ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ امانت، وعدہ، صلح، کاروبار، اور باہمی تعلقات میں سچائی بہت ضروری ہے۔ جو شخص دھوکہ دیتا ہے، وہ لوگوں کا اعتماد بھی توڑتا ہے اور آخرت میں بھی اس پر پکڑ کا اندیشہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دغا انسان کی پہچان کو خراب کر دیتی ہے۔
  • معاملات میں سچائی رکھنا ایمان والے کردار کا حصہ ہے۔
  • قیامت کی جواب دہی کو یاد رکھ کر وعدہ پورا کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں