صحیح بخاری حدیث ۷۱۱۰ - باہمی جنگ سے احتیاط
مسلمانوں کی باہمی جنگ میں احتیاط کا سبق
صحیح بخاری : ۷۱۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۱۱۰
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : قَالَ عَمْرٌو ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَنَّ حَرْمَلَةَ مَوْلَى أُسَامَةَ أَخْبَرَهُ ، قَالَ عَمْرٌو : قَدْ رَأَيْتُ حَرْمَلَةَ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أُسَامَةُ إِلَى عَلِيٍّ ، وَقَالَ : إِنَّهُ سَيَسْأَلُكَ الْآنَ ، فَيَقُولُ : مَا خَلَّفَ صَاحِبَكَ ، فَقُلْ لَهُ : يَقُولُ لَكَ : لَوْ كُنْتَ فِي شِدْقِ الْأَسَدِ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِيهِ ، وَلَكِنَّ هَذَا أَمْرٌ لَمْ أَرَهُ ، فَلَمْ يُعْطِنِي شَيْئًا ، فَذَهَبْتُ إِلَى حَسَنٍ ، وَحُسَيْنٍ ، وَابْنِ جَعْفَرٍ فَأَوْقَرُوا لِي رَاحِلَتِي .
عمرو روایت:
میں نے حرملہ کو دیکھا تھا۔ حرملہ نے بیان کیا کہ مجھے اسامہ نے علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور مجھ سے کہا، اس وقت تم سے علی رضی اللہ عنہ پوچھیں گے کہ تمہارے ساتھی (اسامہ رضی اللہ عنہ) جنگ جمل و صفین سے کیوں پیچھے رہ گئے تھے تو ان سے کہنا کہ انہوں نے آپ سے کہا ہے کہ اگر آپ شیر کے منہ میں ہوں تب بھی میں اس میں بھی آپ کے ساتھ رہوں لیکن یہ معاملہ ہی ایسا ہے یعنی مسلمانوں کی آپس کی جنگ تو (اس میں شرکت صحیح) نہیں معلوم ہوئی (حرملہ کہتے ہیں کہ) چنانچہ انہوں نے کوئی چیز نہیں دی۔ پھر میں حسن، حسین اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کے پاس گیا تو انہوں نے میری سواری پر اتنا مال لدوا دیا جتنا کہ اونٹ اٹھا نہ سکتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۱۱۰ کا خلاصہ
اس روایت میں اسامہ رضی اللہ عنہ کا محتاط انداز سامنے آتا ہے۔ انہوں نے حرملہ کو علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور پہلے ہی بتا دیا کہ علی رضی اللہ عنہ پوچھیں گے کہ تمہارے ساتھی اس جنگ سے کیوں پیچھے رہے۔ جواب یہ دیا گیا کہ اگر آپ شیر کے منہ میں ہوں تو بھی میں آپ کے ساتھ رہنا پسند کروں گا، لیکن یہ معاملہ یعنی مسلمانوں کی آپس کی جنگ مجھے درست معلوم نہیں ہوا۔ اس سے محبت اور وفاداری کے باوجود فتنہ میں احتیاط کا پہلو معلوم ہوتا ہے۔ روایت میں حسن، حسین اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کی سخاوت کا ذکر بھی آتا ہے، جنہوں نے حرملہ کی سواری کو مال سے بھر دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی بزرگ یا محبوب شخصیت سے محبت کے باوجود ہر معاملے میں شرکت لازم نہیں سمجھی گئی۔
- مسلمانوں کی باہمی جنگ کے معاملے میں احتیاط کا رویہ اختیار کیا گیا۔
- بات صاف مگر ادب کے ساتھ پہنچائی گئی۔
- اہل بیت رضی اللہ عنہم کی سخاوت کا واقعہ بھی روایت میں مذکور ہے۔
