صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۵ - یتیم لڑکی کے مہر میں انصاف
یتیم لڑکی کا مہر: نکاح میں انصاف کی شرط
صحیح بخاری : ۶۹۶۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۶۵
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ كَانَ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ : هِيَ الْيَتِيمَةُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا ، فَيَرْغَبُ فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا ، فَيُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِأَدْنَى مِنْ سُنَّةِ نِسَائِهَا ، فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ " ، ثُمَّ اسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ سورة النساء آية 127 ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
عروہ روایت:
عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى فانكحوا ما طاب لكم من النساء» ”اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر دوسری عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں۔“ آپ نے کہا کہ اس آیت میں ایسی یتیم لڑکی کا ذکر ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور ولی لڑکی کے مال اور اس کے حسن سے رغبت رکھتا ہو اور چاہتا ہو کہ عورتوں (کے مہر وغیرہ کے متعلق) جو سب سے معمولی طریقہ ہے اس کے مطابق اس سے نکاح کرے تو ایسے ولیوں کو ان لڑکیوں کے نکاح سے منع کیا گیا ہے۔ سوا اس صورت کے کہ ولی مہر کو پورا کرنے میں انصاف سے کام لے۔پھر لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بعد مسئلہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ويستفتونك في النساء» ”اور لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں مسئلہ پوچھتے ہیں۔“ اور اس واقعہ کا ذکر کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سورۃ النساء کی آیت کی وضاحت بیان کی۔ آیت میں یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کر سکنے کا خوف ہو تو دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم آیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ یہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو۔ ولی اس کے مال اور حسن کی وجہ سے اس میں رغبت رکھتا ہو اور چاہتا ہو کہ عورتوں کے معمول سے کم مہر پر اس سے نکاح کر لے۔ ایسے ولیوں کو ان لڑکیوں سے نکاح سے منع کیا گیا، سوائے اس کے کہ وہ مہر پورا کرنے میں انصاف کریں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع یتیم لڑکی کا حق، مہر، ولی کی ذمہ داری، نکاح میں انصاف اور عورت کے مالی حق کا تحفظ ہے۔ متن صاف بتاتا ہے کہ کمزور حیثیت والی لڑکی کے حق کو کم نہیں کیا جا سکتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یتیم لڑکی کے مہر میں انصاف ضروری ہے۔
- ولی کو لڑکی کے مال اور حسن کی وجہ سے اس کا حق کم نہیں کرنا چاہیے۔
- نکاح میں عورت کے مالی حق کو واضح طور پر اہمیت دی گئی۔
