صحیح بخاری حدیث ۵۰۹۲ - یتیم لڑکی کے مہر میں انصاف
یتیم لڑکی کا مہر: نکاح میں انصاف کی سخت تاکید
صحیح بخاری : ۵۰۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۹۲
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3 ، قَالَتْ : " يَا ابْنَ أُخْتِي ، هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا وَيُرِيدُ أَنْ يَنْتَقِصَ صَدَاقَهَا ، فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ ، وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ ، قَالَتْ : وَاسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ إِلَى وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَهُمْ : أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا كَانَتْ ذَاتَ جَمَالٍ وَمَالٍ رَغِبُوا فِي نِكَاحِهَا وَنَسَبِهَا وَسُنَّتِهَا فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ ، وَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوبَةً عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَكُوهَا وَأَخَذُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ ، قَالَتْ : فَكَمَا يَتْرُكُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا ، فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْكِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الْأَوْفَى فِي الصَّدَاقِ " .
عروہ بن زبیر روایت:
´مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ` انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى» ”اور اگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں تم انصاف نہیں کر سکو گے۔“ کے متعلق سوال کیا۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا میرے بھانجے! اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا حکم بیان ہوا ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور اس کا ولی اس کی خوبصورتی اور مالداری پر ریجھ کر یہ چاہے کہ اس سے نکاح کرے لیکن اس کے مہر میں کمی کرنے کا بھی ارادہ ہو۔ ایسے ولی کو اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے جب وہ ان کا مہر انصاف سے پورا ادا کریں گے اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر آیت میں ایسے ولیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی کے سوا کسی اور سے نکاح کر لیں۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بعد سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں آیت «ويستفتونك في النساء» سے «وترغبون أن تنكحوهن» تک نازل کی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ یتیم لڑکیاں اگر خوبصورت اور صاحب مال ہوں تو ان کے ولی بھی ان کے ساتھ نکاح کر لینا چاہتے ہیں، اس کا خاندان پسند کرتے ہیں اور مہر پورا ادا کر کے ان سے نکاح کر لیتے ہیں۔ لیکن ان میں حسن کی کمی ہو اور مال بھی نہ ہو تو پھر ان کی طرف رغبت نہیں ہو گی اور وہ انہیں چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کر لیتے ہیں۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے اس وقت یتیم لڑکی کو چھوڑ دیتے ہیں جب وہ نادار ہو اور خوبصورت نہ ہو ایسے ہی اس وقت بھی چھوڑ دینا چاہئے جب وہ مالدار اور خوبصورت ہو البتہ اگر اس کے حق میں انصاف کریں اور اس کا مہر پورا ادا کریں تب اس سے نکاح کر سکتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع یتیم لڑکی کے حق اور مہر میں انصاف ہے۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سورۃ النساء کی آیت کے بارے میں پوچھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ یہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو۔ ولی اس کے حسن اور مال کی وجہ سے اس سے نکاح کرنا چاہے، مگر اس کے مہر میں کمی کرنا چاہے۔ ایسے ولی کو اس وقت تک نکاح سے روکا گیا جب تک وہ پورا انصاف نہ کرے اور مہر مکمل ادا نہ کرے۔ اگر انصاف نہ کرے تو اسے کسی دوسری عورت سے نکاح کرنے کا حکم ہے۔ اس حدیث میں یتیم لڑکی کے مال، حسن، نکاح اور مہر کے حق کو صاف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یتیم لڑکی کے مہر میں کمی کرنا ناانصافی ہے۔
- ولی اگر نکاح کرنا چاہے تو اسے پورا انصاف کرنا ہوگا۔
- مالدار یا خوبصورت یتیم لڑکی کے حق کو دبانا درست نہیں۔
- اگر ولی انصاف نہ کر سکے تو اسے کسی دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہیے۔
