صحیح بخاری حدیث ۵۱۰۵ - نسب اور سسرالی رشتوں کی حرمت
محرم رشتے: نسب، سسرال اور نکاح کے احکام
صحیح بخاری : ۵۱۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۰۵
وَقَالَ لَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ ، وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ ، ثُمَّ قَرَأَ : حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ سورة النساء آية 23 الْآيَةَ ، وَجَمَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ بَيْنَ ابْنَةِ عَلِيٍّ وَامْرَأَةِ عَلِيٍّ ، وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ : لَا بَأْسَ بِهِ ، وَكَرِهَهُ الْحَسَنُ مَرَّةً ، ثُمَّ قَالَ : لَا بَأْسَ بِهِ ، وَجَمَعَ الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَيْنَ ابْنَتَيْ عَمٍّ فِي لَيْلَةٍ ، وَكَرِهَهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ لِلْقَطِيعَةِ ، وَلَيْسَ فِيهِ تَحْرِيمٌ لِقَوْلِهِ تَعَالَى : وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ سورة النساء آية 24 ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ : عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " إِذَا زَنَى بِأُخْتِ امْرَأَتِهِ ، لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ " ، وَيُرْوَى عَنْ يَحْيَى الْكِنْدِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، وأَبِي جَعْفَرٍ ، فِيمَنْ يَلْعَبُ بِالصَّبِيِّ ، إِنْ أَدْخَلَهُ فِيهِ ، فَلَا يَتَزَوَّجَنَّ أُمَّهُ ، ويَحْيَى هَذَا غَيْرُ مَعْرُوفٍ وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ ، وَقَالَ عِكْرِمَةُ : عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : " إِذَا زَنَى بِهَا لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ " ، وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي نَصْرٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَرَّمَهُ ، وأَبُو نَصْرٍ هَذَا لَمْ يُعْرَفْ بِسَمَاعِهِ مِنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَيُرْوَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، والْحَسَنِ ، وَبَعْضِ أَهْلِ الْعِرَاقِ تَحْرُمُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " لَا تَحْرُمُ حَتَّى يُلْزِقَ بِالْأَرْضِ يَعْنِي يُجَامِعَ " وَجَوَّزَهُ ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، وعُرْوَةُ ، والزُّهْرِيُّ ، وَقَالَ الزُّهْرِيُّ : قَالَ عَلِيٌّ : لَا تَحْرُمُ ، وَهَذَا مُرْسَلٌ.
ابن عباس روایت:
خون کی رو سے تم پر سات رشتے حرام ہیں اور شادی کی وجہ سے (یعنی سسرال کی طرف سے) سات رشتے بھی۔ انہوں نے یہ آیت پڑھی «حرمت عليكم أمهاتكم» آخر تک۔اور عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب نے علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی زینب اور علی کی بی بی (لیلٰی بنت مسعود) دونوں سے نکاح کیا، ان کو جمع کیا اور ابن سیرین نے کہا اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور امام حسن بصری نے ایک بار تو اسے مکروہ کہا پھر کہنے لگے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب نے اپنے دونوں چاچاؤں (یعنی محمد بن علی اور عمرو بن علی) کی بیٹیوں کو ایک ساتھ میں نکاح میں لے لیا اور جابر بن زید تابعی نے اس کو مکروہ جانا، اس خیال سے کہ بہنوں میں جلاپا نہ پیدا ہو مگر یہ کچھ حرام نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «وأحل لكم ما وراء ذلكم» کہ ان کے سوا اور سب عورتیں تم کو حلال ہیں۔اور عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ اگر کسی نے اپنی سالی سے زنا کیا تو اس کی بیوی (سالی کی بہن) اس پر حرام نہ ہو گی۔ اور یحییٰ بن قیس کندی سے روایت ہے، انہوں نے شعبی اور جعفر سے، دونوں نے کہا اگر کوئی شخص لواطت کرے اور کسی لونڈے کے دخول کر دے تو اب اس کی ماں سے نکاح نہ کرے۔ اور یحییٰ راوی مشہور شخص نہیں ہے اور نہ کسی اور نے اس کے ساتھ ہو کر یہ روایت کی ہے اور عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اگر کسی نے اپنی ساس سے زنا کیا تو اس کی بیوی اس پر حرام نہ ہو گی۔اور ابونصر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حرام ہو جائے گی اور اس راوی ابونصر کا حال معلوم نہیں۔ اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے یا نہیں (لیکن ابوزرعہ نے اسے ثقہ کہا ہے) اور عمران بن حصین اور جابر بن زید اور حسن بصری اور بعض عراق والوں (امام ثوری اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ) کا یہی قول ہے کہ حرام ہو جائے گی۔اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا حرام نہ ہو گی جب تک اس کی ماں (اپنی خوشدامن) کو زمین سے نہ لگا دے (یعنی اس سے جماع نہ کرے) اور سعید بن مسیب اور عروہ اور زہری نے اس کے متعلق کہا ہے کہ اگر کوئی ساس سے زنا کرے تب بھی اس کی بیٹی یعنی زنا کرنے والے کی بیوی اس پر حرام نہ ہو گی (اس کو رکھ سکتا ہے) اور زہری نے کہا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کی جورو اس پر حرام نہ ہو گی اور یہ روایت منقطع ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۰۵ کا خلاصہ
اس روایت کا بنیادی موضوع محرم رشتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل ہے کہ خون کے رشتے سے سات رشتے حرام ہیں اور شادی کی وجہ سے بھی سات رشتے حرام ہیں۔ پھر انہوں نے آیت “حرمت علیکم امہاتکم” پڑھی۔ روایت میں نکاح کے مختلف قریبی رشتوں کے بارے میں کئی اقوال بھی ذکر ہوئے ہیں، جیسے علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور علی رضی اللہ عنہ کی بیوی کو ایک نکاح میں جمع کرنے کا ذکر، دو چچازاد بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے کا واقعہ، اور بعض صورتوں میں کراہت یا عدم حرمت کے اقوال۔ اس متن میں یہ بات بار بار سامنے آتی ہے کہ کون سا رشتہ نکاح کے لیے حرام ہے اور کون سا رشتہ بعض اہل علم کے نزدیک مکروہ تو ہو سکتا ہے مگر حرام نہیں۔ اس لیے اس روایت کو محرم رشتوں کی حدیث یا نسب و مصاہرت کے احکام کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نسب کی وجہ سے کچھ رشتے نکاح کے لیے حرام ہوتے ہیں۔
- سسرالی رشتوں کی وجہ سے بھی بعض عورتیں نکاح کے لیے حرام ہو جاتی ہیں۔
- بعض رشتوں میں اہل علم کے درمیان کراہت اور حرمت کے فرق کا ذکر آیا ہے۔
- نکاح سے پہلے محرم رشتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
