صحیح بخاری حدیث ۵۱۰۴ - رضاعت کے دعوے پر نکاح ختم کرنے کا حکم

رضاعت کا دعویٰ: نکاح میں احتیاط کا بڑا سبق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۰۴

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قالَ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ لَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ ، قَالَ : " تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : أَرْضَعْتُكُمَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ بِنْتَ فُلَانٍ ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ لِي : إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ ، قُلْتُ : إِنَّهَا كَاذِبَةٌ ، قَالَ : كَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا ؟ دَعْهَا عَنْكَ ، وَأَشَارَ إِسْمَاعِيلُ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ، يَحْكِي أَيُّوبَ .

عبداللہ بن ابی ملیکہ روایت:

میں نے یہ حدیث خود عقبہ سے بھی سنی ہے لیکن مجھے عبید کے واسطے سے سنی ہوئی حدیث زیادہ یاد ہے۔ عقبہ بن حارث نے بیان کیا کہ میں نے ایک عورت (ام یحییٰ بن ابی اہاب) سے نکاح کیا۔ پھر ایک کالی عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہے۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے فلانی بنت فلاں سے نکاح کیا ہے۔ اس کے بعد ہمارے یہاں ایک کالی عورت آئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، حالانکہ وہ جھوٹی ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عقبہ کا یہ کہنا کہ وہ جھوٹی ہے ناگوار گزرا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا۔ پھر میں آپ کے سامنے آیا اور عرض کیا وہ عورت جھوٹی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس بیوی سے اب کیسے نکاح رہ سکے گا جبکہ یہ عورت یوں کہتی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، اس عورت کو اپنے سے الگ کر دو۔“حدیث کے راوی) اسماعیل بن علیہ نے اپنی شہادت اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا کہ ایوب نے اس طرح اشارہ کر کے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۰۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع رضاعت کا دعویٰ اور نکاح میں احتیاط ہے۔ عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت سے نکاح کیا۔ پھر ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ عقبہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بتایا کہ اس عورت نے ایسا کہا ہے، حالانکہ وہ جھوٹی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ پھیر لیا۔ جب انہوں نے دوبارہ کہا کہ وہ جھوٹی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اس عورت کے ہوتے ہوئے نکاح کیسے رہ سکتا ہے جبکہ وہ کہہ رہی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اپنے سے الگ کر دو۔ اس حدیث میں رضاعت کے دعوے کو نکاح کے معاملے میں بہت سنجیدہ لیا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رضاعت کا دعویٰ نکاح کے حکم پر اثر ڈال سکتا ہے۔
  • نکاح کے معاملے میں مشتبہ رضاعی رشتہ معمولی بات نہیں۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے دعوے پر احتیاط کا حکم دیا۔
  • رشتوں کی حرمت کے باب میں ذاتی پسند سے زیادہ شرعی احتیاط اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں