صحیح بخاری حدیث ۵۱۰۲ - رضاعت میں تحقیق کی تاکید
دودھ کا بھائی کون؟ رضاعت میں سوچ سمجھ کر فیصلہ
صحیح بخاری : ۵۱۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۰۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ ، فَكَأَنَّهُ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ ، كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : إِنَّهُ أَخِي ، فَقَالَ : " انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ ، فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ ان کے یہاں ایک مرد بیٹھا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا گویا کہ آپ نے اس کو پسند نہیں فرمایا عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ میرے دودھ والے بھائی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو، سوچ سمجھ کر کہو کون تمہارا بھائی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع رضاعت کی تحقیق ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو ایک مرد ان کے ہاں بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، گویا آپ نے اسے پسند نہیں فرمایا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یہ میرے دودھ والے بھائی ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو، سوچ سمجھ کر کہو کون تمہارا بھائی ہے، کیونکہ رضاعت تو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس حدیث میں رضاعی رشتے کے دعوے کو آسانی سے قبول کرنے کے بجائے تحقیق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ رضاعت کی حدیث تلاش کرنے والے اس روایت کو “فإنما الرضاعة من المجاعة” کے الفاظ سے بھی ڈھونڈتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رضاعی بھائی ہونے کا دعویٰ احتیاط اور تحقیق کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سوچ سمجھ کر کہنے کی تاکید فرمائی۔
- رضاعت کا تعلق اس دودھ پینے سے ہے جو واقعی بچے کی غذا بنے۔
- رشتوں کے احکام میں بے احتیاطی مناسب نہیں۔
