صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۴ - مؤمن بھائی کے سودے اور پیغام کا احترام

مؤمن مؤمن کا بھائی ہے: بیع اور نکاح کے آداب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۶۴

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، وَغَيْرِهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ ، فَلَا يَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَ " .

عقبہ بن عامر روایت:

عبدالرحمٰن بن شماسہ نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ منبر پر کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ مؤمن مؤمن کا بھائی ہے سو روا نہیں کسی مؤمن کو کہ بیچے کسی مؤمن کی بیع پر اور نہ یہ روا ہے کہ خطبہ دے یعنی پیغام کسی بھائی کے پیغام پر جب تک وہ چھوڑ نہ دیے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں بات مزید واضح انداز میں آئی ہے کہ مؤمن مؤمن کا بھائی ہے۔ اسی بھائی چارے کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی مؤمن دوسرے مؤمن کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اس کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام دے، جب تک وہ معاملہ چھوڑ نہ دیا جائے۔ یہاں حدیث نے ایک اہم حد بھی بتائی ہے: جب تک پہلے والا معاملہ باقی ہے، دوسرے کو بیچ میں نہیں آنا چاہیے۔ اس سے خرید و فروخت اور نکاح دونوں میں احترام پیدا ہوتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مسلمان بھائی کے حق، عزت اور جاری بات چیت کا لحاظ کرنا دین کے اچھے اخلاق میں شامل ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مؤمن کو دوسرے مؤمن کے جاری سودے میں دخل نہیں دینا چاہیے۔
  • پیغام نکاح پر دوسرا پیغام تب تک نہ دیا جائے جب تک پہلا معاملہ چھوڑ نہ دیا جائے۔
  • مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ عملی معاملات میں بھی نظر آنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں