صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۲ - مسلمان بھائی کے معاملے کا احترام
مسلمان بھائی کی بولی پر بولی نہ لگانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۴۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۶۲
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، وَسُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۲ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے، اس لیے اس کا مرکز بھی یہی ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کے جاری معاملے میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ جب ایک مسلمان کسی چیز کی خریداری یا بولی کے مرحلے میں ہو تو دوسرا شخص اس کے اوپر بولی لگا کر معاملہ بگاڑنے کی کوشش نہ کرے۔ اسی طرح جب کسی گھر میں پیغام نکاح چل رہا ہو تو اس پر دوسرا پیغام بھیجنا مناسب نہیں بتایا گیا۔ اس سے ایک سادہ اخلاقی اصول سمجھ آتا ہے: اپنے فائدے کے لیے دوسرے مسلمان کے معاملے کو خراب نہ کیا جائے۔ حدیث مختصر ہے، مگر خرید و فروخت اور رشتہ دونوں میں باہمی احترام کی تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوسرے مسلمان کے جاری سودے میں خرابی ڈالنے سے بچنا چاہیے۔
- پیغام نکاح کے معاملے میں دوسرے کے حق اور عزت کا خیال رکھا جائے۔
- مسلمان کے ساتھ معاملہ کرتے وقت صاف نیت اور نرمی اختیار کی جائے۔
