صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۳ - بولی اور خطبہ نکاح میں احتیاط
پیغام نکاح پر پیغام نہ دینے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۴۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۶۳
ح وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِح عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّهُمْ ، قَالُوا : " عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَخِطْبَةِ أَخِيهِ " .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں چند الفاظ کے اختلاف کے ساتھ۔
صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۳ کا خلاصہ
اس روایت میں چند الفاظ کے فرق کے ساتھ وہی بات آئی ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کی بولی پر بولی نہ لگائے اور اس کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے۔ الفاظ کا یہ فرق اصل معنی کو نہیں بدلتا۔ مقصد یہی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے معاملے کو کاٹ کر اپنے لیے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔ خرید و فروخت میں بولی کا معاملہ ہو یا نکاح کے پیغام کا، دونوں جگہ دل آزاری اور جھگڑے کا امکان ہوتا ہے۔ حدیث ہمیں سیدھا راستہ بتاتی ہے کہ جب کسی کا معاملہ چل رہا ہو تو صبر، لحاظ اور عدل سے کام لیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوسرے مسلمان کے جاری سودے میں خرابی ڈالنے سے بچنا چاہیے۔
- پیغام نکاح کے معاملے میں دوسرے کے حق اور عزت کا خیال رکھا جائے۔
- مسلمان کے ساتھ معاملہ کرتے وقت صاف نیت اور نرمی اختیار کی جائے۔
