صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۱ - بولی اور پیغام نکاح کے آداب

بولی پر بولی اور پیغام نکاح پر پیغام کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۶۱

حدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَا يَسُمِ الْمُسْلِمُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَتِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی مسلمان اپنے بھائی کی بولی پر بولی نہ لگائے اور نہ ہی اس کے پیغام نکاح پر پیغام دے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کے معاملے میں دخل اندازی نہ کرے۔ اگر کوئی شخص خرید و فروخت میں کسی چیز کی بولی لگا چکا ہے تو دوسرا مسلمان اسی سودے کو خراب کرنے کے لیے اوپر سے بولی نہ لگائے۔ اسی طرح اگر کسی جگہ پیغام نکاح چل رہا ہو تو دوسرا شخص اسی پیغام کے اوپر اپنا پیغام نہ بھیجے۔ یہ بات عام فہم انداز میں ہمیں بتاتی ہے کہ معاملات میں صاف دلی، نرمی اور دوسرے کے حق کا خیال ضروری ہے۔ حدیث میں دو واضح مثالیں دی گئی ہیں: بولی پر بولی اور پیغام نکاح پر پیغام۔ اس لیے اس کی بات صرف انہی صورتوں تک رکھی جائے گی جو متن میں آئی ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دوسرے مسلمان کے جاری سودے میں خرابی ڈالنے سے بچنا چاہیے۔
  • پیغام نکاح کے معاملے میں دوسرے کے حق اور عزت کا خیال رکھا جائے۔
  • مسلمان کے ساتھ معاملہ کرتے وقت صاف نیت اور نرمی اختیار کی جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں