صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۰ - بیع میں انصاف
بھائی کی بیع پر بولی نہ بڑھانے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۴۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۶۰
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ : وَلَا يَزِدِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ .
اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔ سوائے اس کے کہ اس میں یہ زیادہ ہے کہ کوئی بھائی اپنے بھائی کی بیع پر بولی نہ بڑھائے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۰ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو اسی سند سے بیان کرتی ہے، مگر اس میں ایک اضافی جملہ ذکر ہوا ہے کہ کوئی بھائی اپنے بھائی کی بیع پر بولی نہ بڑھائے۔ اس اضافے سے متن میں بیع اور قیمت کے معاملے پر خاص توجہ آتی ہے۔ یعنی اگر کسی کا سودا چل رہا ہو تو دوسرا آدمی بیچ میں آ کر اپنی بولی یا پیشکش سے اسے خراب نہ کرے۔ فراہم کردہ الفاظ میں باقی مضمون پچھلی روایت جیسا بتایا گیا ہے، اس لیے ہمیں وضاحت کو اسی حد میں رکھنا چاہیے۔ یہ حدیث تجارت میں دیانت، بولی میں انصاف اور دوسرے کے جاری معاملے کا احترام سکھاتی ہے۔ جو لوگ “بیع پر بیع” یا “بھائی کی بولی پر بولی” کی حدیث تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے اس روایت کا یہ اضافہ خاص طور پر اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کے جاری سودے پر بولی بڑھانا منع بتایا گیا۔
- یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- تجارت میں دوسرے کے معاملے کا احترام ضروری ہے۔
