صحیح مسلم حدیث ۳۴۵۵ - اجازت اور انصاف
پیغام نکاح اور بیع میں اجازت کی شرط والی حدیث
صحیح مسلم : ۳۴۵۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۵۵
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، جميعا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حدثنا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ " ،
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ بیچے کوئی کسی کی بیع پر اور نہ پیغام نکاح دے کسی کے پیغام پر مگر جب اجازت دے وہ پیغام دینے والا کسی کو۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۴۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم نے دو باتوں سے منع فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے، اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے۔ البتہ اس روایت میں ایک اہم قید بھی آئی ہے: مگر جب پہلے پیغام دینے والا اجازت دے دے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل ممانعت مداخلت اور حق تلفی سے متعلق ہے۔ اگر معاملے والا خود اجازت دے تو صورت مختلف ہو جاتی ہے، جیسا کہ حدیث کے الفاظ میں آیا ہے۔ عام زندگی میں یہ بات بہت اہم ہے، کیونکہ رشتہ اور سودا دونوں جگہ جلد بازی یا مقابلہ دلوں کو خراب کر سکتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ نکاح کے پیغام اور خرید و فروخت میں صاف دلی، اجازت اور احترام کا راستہ اختیار کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کے سودے پر سودا نہ کیا جائے۔
- کسی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دیا جائے۔
- اگر پہلے شخص کی اجازت ہو تو حدیث میں اس کا استثنا ذکر ہوا ہے۔
