صحیح مسلم حدیث ۳۴۵۴ - معاملات میں انصاف
کسی کی بیع اور پیغام نکاح پر مداخلت نہ کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۴۵۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۵۴
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ . ح وحدثنا ابْنُ رُمْح ، أَخْبَرَنا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ، وَلَا يَخْطُبْ بَعْضُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ بیچے کوئی دوسرے کی بکی ہوئی چیز پر اور نہ پیغام دے کوئی دوسرے کے پیغام پر۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۴۵۴ کا خلاصہ
یہ حدیث معاملات اور نکاح دونوں میں دوسروں کے حق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: کوئی شخص دوسرے کی بکی ہوئی چیز پر بیع نہ کرے، اور نہ دوسرے کے پیغام نکاح پر پیغام دے۔ سادہ الفاظ میں اگر کوئی سودا پہلے سے چل رہا ہے تو بیچ میں داخل ہو کر اسے خراب نہ کیا جائے۔ اسی طرح اگر کسی رشتے کی بات پہلے سے جاری ہے تو دوسرا شخص اس پر اپنا پیغام نہ بھیجے۔ حدیث میں دو چیزیں ایک ساتھ آئیں: تجارت کی دیانت اور نکاح کی شرافت۔ یہ دونوں انسانی تعلقات سے جڑی ہوئی ہیں۔ قاری کے لیے اصل سبق یہ ہے کہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے کسی کے جاری معاملے میں مداخلت کرنا درست انداز نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کی جاری بیع پر دوسری بیع نہیں کرنی چاہیے۔
- کسی کے پیغام نکاح پر نیا پیغام نہیں دینا چاہیے۔
- تجارت اور نکاح دونوں میں دوسروں کے حق کا خیال رکھا جائے۔
