صحیح مسلم حدیث ۳۴۵۹ - صاف معاملات
لا تناجشوا: تجارت اور نکاح میں دوسروں کے حق کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۴۵۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۵۹
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا يَبِعِ الْمَرْءُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا يَخْطُبِ الْمَرْءُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ الْأُخْرَى لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا " ،
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ آپس میں قیمت نہ بڑھاؤ اور کسی کی بیع پر بیع نہ کرو اور شہری گاؤں والے کا مال نہ بیچے اور نہ اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجو اور نہ ہی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو کچھ اس کے برتن میں ہے وہ اپنے لیے انڈیل لے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۴۵۹ کا خلاصہ
یہ حدیث تجارت اور نکاح دونوں میں صاف معاملہ کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ آپس میں قیمت نہ بڑھاؤ، کسی کی بیع پر بیع نہ کرو، شہری گاؤں والے کا مال نہ بیچے، اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ بھیجو۔ اسی کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ کوئی عورت دوسری عورت کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ جو کچھ اس کے برتن میں ہے وہ اپنے لیے لے لے۔ اس حدیث میں کئی کاموں سے روکا گیا ہے، مگر سب کا رشتہ ایک ہی اخلاقی بات سے ہے: دوسرے کے حق میں غلط مداخلت نہ کرو۔ خرید و فروخت ہو یا رشتہ، انسان کو اپنی خواہش کے لیے دوسروں کا معاملہ خراب نہیں کرنا چاہیے۔ یہ حدیث عام زندگی کے بازار، گھر اور رشتے سب کو پاکیزہ انداز دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دھوکے کے لیے قیمت بڑھانے سے منع کیا گیا۔
- کسی کی بیع یا پیغام نکاح میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
- دوسری عورت کی طلاق اپنے فائدے کے لیے نہیں مانگنی چاہیے۔
- شہری کا گاؤں والے کا مال بیچنا اس روایت میں منع آیا ہے۔
