صحیح مسلم حدیث ۳۴۵۸ - معاملات اور نکاح
تجارت، پیغام نکاح اور طلاق کے مطالبے سے متعلق جامع حدیث
صحیح مسلم : ۳۴۵۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۵۸
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، أَوْ يَتَنَاجَشُوا ، أَوْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، أَوْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا ، لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا ، أَوْ مَا فِي صَحْفَتِهَا " ، زَادَ عَمْرٌ وَفِي رِوَايَتِهِ : وَلَا يَسُمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ .
ابوہریرہ روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اس سے کہ شہر والا مال بیچ دے گاؤں والے کا اور منع فرمایا اس سے کہ آپس میں لاڑھیا پن کرو اور اس سے کہ پیغام نکاح دے کوئی اپنے بھائی کے پیغام پر یا بیچے کوئی اپنے بھائی کی بیع پر اور نہ مانگے طلاق اپنی بہن کی کوئی عورت تاکہ انڈیل لے جو اس کی رکابی میں ہے۔ زیادہ کیا عمرو نے اپنی روایت میں کہ اور نہ بھاؤ کرے کوئی اپنے بھائی کے بھاؤ پر۔
صحیح مسلم حدیث ۳۴۵۸ کا خلاصہ
یہ حدیث معاملات، نکاح اور معاشرتی انصاف کے کئی پہلو ایک ساتھ بیان کرتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مطابق نبی صلى الله عليه وسلم نے منع فرمایا کہ شہر والا گاؤں والے کا مال بیچے، آپس میں لاڑھیا پن یا مصنوعی قیمت بڑھانے کا کام کیا جائے، کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام دے، یا اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے برتن یا رکابی میں جو کچھ ہے، اسے اپنے لیے لے لے۔ عمرو کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ کوئی اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ کرے۔ یہ حدیث روزمرہ زندگی میں انصاف، شفاف معاملہ، اور دوسروں کے حق کا احترام سکھاتی ہے۔ یہاں ہر بات کا تعلق کسی نہ کسی جاری حق میں مداخلت سے ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مصنوعی قیمت بڑھانے سے منع کیا گیا۔
- کسی کے پیغام نکاح یا بیع میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
- عورت کو دوسری عورت کی طلاق اپنے فائدے کے لیے نہیں مانگنی چاہیے۔
- حدیث میں شہری کے گاؤں والے کا مال بیچنے سے بھی منع آیا ہے۔
