صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۵ - نکاح شغار کی ممانعت
نکاح شغار کیا ہے؟ حدیث کی آسان وضاحت
صحیح مسلم : ۳۴۶۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۶۵
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ وَالشِّغَارُ : أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ ، عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ ابْنَتَهُ ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ " ،
ابن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا نکاح شغار سے اور وہ یہ تھا کہ ایک شخص اپنی بیٹی بیاہ دیتا تھا دوسرے کو اس اقرار سے کہ وہ بھی اپنی بیٹی اسے بیاہ دے اور مہر دونوں کا نہ ہوتا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نکاح شغار سے منع کیا گیا ہے۔ متن ہی میں شغار کی صورت بھی سمجھا دی گئی ہے: ایک شخص اپنی بیٹی کسی دوسرے کو اس شرط پر دے کہ وہ بھی اپنی بیٹی اسے دے، اور دونوں کے درمیان مہر نہ ہو۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کا اصل موضوع نکاح میں مہر اور صاف معاملہ ہے۔ یہاں نکاح کو ایک بدل یا تبادلے کی شکل بنانے سے روکا گیا ہے، خاص طور پر جب مہر موجود نہ ہو۔ عام زبان میں کہا جائے تو نکاح شغار وہ صورت ہے جس میں دو خاندان لڑکیوں کے نکاح کو آپس کے بدل کے طور پر طے کریں اور مہر کو چھوڑ دیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح میں مہر کو نظر انداز کرنے والا شغار طریقہ منع کیا گیا۔
- بیٹی یا بہن کے نکاح کو باہمی بدل کے طور پر پیش کرنا درست نہیں بتایا گیا۔
- نکاح کو صاف، واضح اور مہر کے حق کے ساتھ ہونا چاہیے۔
