صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۷ - شغار نکاح سے صاف ممانعت
نکاح شغار سے ممانعت کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۴۶۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۶۷
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ " .
ابن عمر روایت:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مختصر الفاظ میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔ اگرچہ اس روایت کے الفاظ مختصر ہیں، مگر موضوع صاف ہے: نکاح کو شغار کے طریقے پر نہ کیا جائے۔ پچھلی روایت کے مطابق شغار کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی بیٹی اس شرط پر بیاہے کہ دوسرا بھی اپنی بیٹی اسے بیاہے، اور مہر نہ ہو۔ اس لیے اس حدیث کا اہم سبق یہ ہے کہ نکاح میں عورت کے حق، خاص طور پر مہر، کو حذف کر کے اسے محض تبادلہ نہ بنایا جائے۔ یہ بات عام لوگوں کے لیے بہت واضح رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح میں مہر کو نظر انداز کرنے والا شغار طریقہ منع کیا گیا۔
- بیٹی یا بہن کے نکاح کو باہمی بدل کے طور پر پیش کرنا درست نہیں بتایا گیا۔
- نکاح کو صاف، واضح اور مہر کے حق کے ساتھ ہونا چاہیے۔
