صحیح مسلم حدیث ۳۴۷۱ - جابر رضی اللہ عنہ سے شغار کی ممانعت
نکاح شغار سے منع کی گئی حدیث
صحیح مسلم : ۳۴۷۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۷۱
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَال ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحدثناه إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْر ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۴۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔ روایت مختصر ہے، مگر معنی واضح ہے۔ شغار وہ طریقہ ہے جس میں نکاح کو باہمی بدل کے طور پر طے کیا جاتا تھا، جیسے ایک کی بیٹی یا بہن کے بدلے دوسرے کی بیٹی یا بہن۔ اس حدیث میں تفصیل نہیں، صرف ممانعت آئی ہے؛ اس لیے وضاحت اسی حد تک رہے گی کہ ایسا نکاحی طریقہ پسندیدہ نہیں رکھا گیا بلکہ منع کیا گیا۔ عام فہم سبق یہ ہے کہ نکاح میں عورت کو بدل کا حصہ نہ بنایا جائے اور مہر و حق کو واضح رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح میں مہر کو نظر انداز کرنے والا شغار طریقہ منع کیا گیا۔
- بیٹی یا بہن کے نکاح کو باہمی بدل کے طور پر پیش کرنا درست نہیں بتایا گیا۔
- نکاح کو صاف، واضح اور مہر کے حق کے ساتھ ہونا چاہیے۔
