صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۸ - اسلام میں شغار نہیں

اسلام میں شغار نہیں: نکاح شغار کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۶۸

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ " .

ابن عمر روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں شغار نہیں ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۸ کا خلاصہ

اس روایت میں الفاظ بہت مختصر مگر صاف ہیں: اسلام میں شغار نہیں ہے۔ یہ جملہ نکاح شغار کی ممانعت کو بہت مضبوط انداز میں بیان کرتا ہے۔ شغار وہ صورت ہے جس کی وضاحت دوسری روایت میں آئی کہ ایک شخص اپنی بیٹی دوسرے کو اس شرط پر دے کہ دوسرا بھی اپنی بیٹی اسے دے، اور مہر نہ رکھا جائے۔ اس حدیث سے عام مسلمان کے لیے سیدھی بات نکلتی ہے کہ نکاح کو ایسا لین دین نہ بنایا جائے جس میں مہر اور صاف حق موجود نہ ہو۔ نکاح عبادت اور ذمہ داری کا معاملہ ہے، اسے باہمی بدل یا سودے جیسی شکل دینا حدیث کے مطابق درست نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اسلام میں شغار کے طریقے کو جگہ نہیں دی گئی۔
  • نکاح کو مہر کے بغیر تبادلہ بنانے سے روکا گیا۔
  • نکاح میں حقوق کو واضح رکھنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں