صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۹ - بیٹی یا بہن کے بدلے نکاح کی ممانعت

بیٹی کے بدلے بیٹی کا نکاح: شغار کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۶۹

حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا ابْنُ نُمَيْر ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ " ، زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ : وَالشِّغَارُ : أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ : زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ ، وَأُزَوِّجُكَ ابْنَتِي ، أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَكَ ، وَأُزَوِّجُكَ أُخْتِي ،

ابوہریرہ روایت:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہی مضمون مروی ہے اور ابن نمیر کی روایت میں یہ ہے کہ شغار یہ ہے کہ آدمی کسی سے کہے کہ تم مجھے اپنی لڑکی بیاہ دو کہ میں اپنی لڑکی تم کو بیاہ دوں یا مجھے اپنی بہن بیاہ دو کہ میں تم کو اپنی بہن بیاہ دوں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نکاح شغار کی ممانعت بیان ہوئی ہے، اور ابن نمیر کی روایت میں اس کی مثال بھی آئی ہے۔ مثال یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے: تم مجھے اپنی لڑکی بیاہ دو، میں اپنی لڑکی تمہیں بیاہ دوں؛ یا تم مجھے اپنی بہن بیاہ دو، میں اپنی بہن تمہیں بیاہ دوں۔ اس سے شغار کی عملی شکل آسانی سے سمجھ آتی ہے۔ حدیث کا زور اسی بات پر ہے کہ نکاح کو لڑکی یا بہن کے بدلے لڑکی یا بہن کے طور پر طے نہ کیا جائے۔ اس میں مہر اور نکاح کے صاف حق کو نظر انداز کرنے کی خرابی سامنے آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیٹی کے بدلے بیٹی یا بہن کے بدلے بہن کا نکاح شغار کی صورت ہے۔
  • حدیث میں اس طریقے سے منع کیا گیا ہے۔
  • نکاح کو باہمی بدل کے بجائے واضح حق کے ساتھ ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں