صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۶ - شغار کے بارے میں مروی روایت
شغار نکاح کی روایت اور اس کا مطلب
صحیح مسلم : ۳۴۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۶۶
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا : حدثنا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِنَافِعٍ : مَا الشِّغَارُ ؟ .
چند الفاظ کے فرق کے ساتھ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۴۶۶ کا خلاصہ
یہ روایت چند الفاظ کے فرق کے ساتھ نکاح شغار ہی کے مضمون کو بیان کرتی ہے۔ اس میں سوال کے انداز سے بھی اشارہ ملتا ہے کہ شغار کی وضاحت پوچھی گئی۔ اصل بات وہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔ چونکہ پچھلی روایت میں اس کی صورت بیان ہوئی کہ ایک شخص اپنی بیٹی دوسرے کو اس شرط پر دے کہ دوسرا بھی اپنی بیٹی اسے دے، اور مہر نہ ہو، اس لیے یہاں بھی سمجھ یہی ہے کہ نکاح کو اس قسم کے تبادلے کی شکل نہ دی جائے۔ حدیث ہمیں نکاح کے معاملے میں صاف شرط، مہر اور عورت کے حق کو نظر انداز نہ کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح میں مہر کو نظر انداز کرنے والا شغار طریقہ منع کیا گیا۔
- بیٹی یا بہن کے نکاح کو باہمی بدل کے طور پر پیش کرنا درست نہیں بتایا گیا۔
- نکاح کو صاف، واضح اور مہر کے حق کے ساتھ ہونا چاہیے۔
