صحیح بخاری حدیث ۵۱۰۰ - رضاعی بھائی کی بیٹی سے نکاح کا حکم
رضاعی بھائی کی بیٹی: نکاح میں رضاعت کا اثر
صحیح بخاری : ۵۱۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۰۰
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تَتَزَوَّجُ ابْنَةَ حَمْزَةَ ؟ قَالَ : إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " ، وَقَالَ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ ، مِثْلَهُ .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میرے دودھ کے بھائی کی بیٹی ہے۔ اور بشر بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے اسی طرح جابر بن زید سے سنا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع رضاعت اور نکاح کی حرمت ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ میرے دودھ کے بھائی کی بیٹی ہے۔ اس مختصر جواب میں ایک بڑا حکم صاف ہو گیا کہ رضاعی بھائی کی بیٹی بھی نکاح کے لیے حلال نہیں ہوتی۔ حدیث میں حمزہ رضی اللہ عنہ کا نام، ان کی بیٹی کا ذکر، اور دودھ کے بھائی کا رشتہ بیان ہوا ہے۔ یہ روایت رضاعت سے حرمت ثابت ہونے کی عملی مثال ہے۔ جو لوگ رضاعی رشتوں کے نکاح کا حکم تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ حدیث بہت واضح ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رضاعی بھائی کی بیٹی سے نکاح جائز نہیں ہوتا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رضاعت کے رشتے کو نکاح کے حکم میں معتبر قرار دیا۔
- رضاعی رشتے صرف نام کے رشتے نہیں، ان کے شرعی احکام ہیں۔
- نکاح سے پہلے رشتوں کی حقیقت معلوم کرنا ضروری ہے۔
