صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۴ - خرید و فروخت میں دھوکہ نہیں
خرید و فروخت میں دھوکہ نہ ہو: لا خلابة کا سبق
صحیح بخاری : ۶۹۶۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۶۴
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ ، فَقَالَ : إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ : لَا خِلَابَةَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ وہ خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کچھ خریدا کرو تو کہہ دیا کرو کہ اس میں کوئی دھوکہ نہ ہونا چاہئے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں خرید و فروخت میں دھوکے سے بچنے کا ایک آسان طریقہ بتایا گیا ہے۔ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ وہ خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کوئی معاملہ کرو تو کہہ دیا کرو: لا خلابة، یعنی اس میں دھوکہ نہ ہو۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع تجارت، دھوکہ، خرید و فروخت، لا خلابة اور صاف معاملہ ہے۔ متن میں خاص طور پر ایک ایسے شخص کا ذکر ہے جو لین دین میں نقصان اٹھا لیتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لمبی بات نہیں بتائی، بلکہ ایک مختصر جملہ سکھایا تاکہ معاملہ شروع ہی میں صاف ہو جائے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ بازار میں کمزور یا سادہ آدمی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خرید و فروخت میں دھوکہ نہیں ہونا چاہیے۔
- اگر کوئی شخص دھوکہ کھاتا ہو تو وہ معاملے سے پہلے شرط واضح کر سکتا ہے۔
- لا خلابة کا جملہ صاف اور محفوظ لین دین کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
